ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / موصل پر پارلیمنٹ میں بولیں سشماسوراج، لاپتہ39ہندوستانیوں کے مارے جانے کا کوئی ثبوت نہیں

موصل پر پارلیمنٹ میں بولیں سشماسوراج، لاپتہ39ہندوستانیوں کے مارے جانے کا کوئی ثبوت نہیں

Thu, 27 Jul 2017 10:42:54    S.O. News Service

نئی دہلی،26جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ا یس انڈیا)عراق میں لاپتہ 39ہندوستانیوں کے معاملے پر وزیر خارجہ سشما سوراج نے لوک سبھا میں بیان دیا۔لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے سشما سوراج نے کہا کہ یہ معاملہ بہت سنگین ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس بات کو ہنگامے کے دوران نہیں بولوں گی، پورا ملک اس معاملے کو سننا چاہتا ہے۔سشما بولیں کہ میں نے اس معاملے پر راجیہ سبھا میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

سشما سوراج نے کہا کہ میں شروع سے ہی لوک سبھا میں بیان دینا چاہتی تھی۔یہ واقعہ ہماری حکومت آنے کے 20دن بعدکا ہے۔اس وقت ہرجیت نے یہ بیان دیا تھا کہ میرے سامنے 39لوگوں کو مار دیا گیا تھا، اور میں بھاگ کر آ گیا تھا لیکن ہمیں نہ ہی کہیں لاشیں ملی، نہ ہی کوئی فہرست ملی اور اس وجہ سے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ہرجیت کے بیان میں کافی تضاد ہے، جس مسئلے کو اٹھایا گیا تھا،ہم نے موصل کے آس پاس تلاشی لی ہے، میں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ ایوان کو اعتماد میں لے کر کیا۔

24نومبر 2014کو میں نے کہا تھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ وہ مار دیئے گئے ہیں، اور 6ذرائع کہہ رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں تو مجھے کیا انہیں ڈھونڈنا نہیں چاہئے،میں نے بار بار ایوان سے کہا تھا کہ میرے پاس ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے، نہ ہی میرے پاس ان کے مارے جانے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے،میں ایوان کی اجازت چاہوں گی کہ اگر میرا راستہ صحیح ہے تو ہم اس میں آگے بڑھ سکے،اس کے لئے مجھے بیان بھی دیا گیا تھا۔تین سال سے غلط رخ دینے کا الزام لگایا گیا،بغیر ٹھوس ثبوت کے انہیں مردہ قرار نہیں دیاجاسکتا ہے، ایسا کرنا گناہ ہے، میں یہ گناہ کبھی نہیں کروں گی،مجھے پتہ لگا کہ اس میں ترکی سے مدد مل سکتی ہے، میں خود ترکی گئی تھی بات کرنے کی۔پی ایم نے بھی اس معاملے پر بات کی۔ہمارے ذرائع ایسے ویسے نہیں ہیں ہمیں ایک ملک کے صدر، ایک ملک کے وزیر خارجہ نے یہ بتایا ہے،میں 12بار متاثرین کے خاندان سے ملی ہوں، میں نے ہر بار کہا کہ میرے پاس ان کے زندہ رہنے کی کوئی معلومات نہیں ہے، میں ذرائع کے حوالے سے یہ کہہ رہی ہوں۔ان کا فائل اس وقت تک بند نہیں کر سکتے ہیں جب تک کوئی ثبوت نہ ہو۔سشما نے کہا کہ اگر میں آج کہہ دوں کہ وہ مر گئے ہیں میں کل کو کوئی زندہ ہوا تو کسے الزام دیں گے،اگر کسی خاندان والے کا مجھ پر سے بھروسہ اٹھ گیا ہے تو وہ آزاد ہیں،میں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ لوگ جیل میں بند ہیں۔9 تاریخ کو موصل آزاد ہونے کا اعلان کیاگیا،10تاریخ کو ہمارے وزیر خارجہ موصل پہنچ گئے تھے،وہ 4دن وہاں پر رہے. وی کے سنگھ کے آنے کے بعد ہی میں نے متاثرین کے خاندان کو بلایا۔وی کے سنگھ نے کہا تھا کہ ہمارے ذرائع کے حوالے سے وہ لوگ وہاں پھنسے، پھر انہیں اسپتال میں رکھا گیا پھر کھیتی کروائی گئی لیکن 2016کے بعد سے ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے،ہمیں جو پتہ لگا ہم نے وہی خاندان کو بتایا۔سشما بولیں کہ تصویر صرف اتنا بتاتی ہے کہ جیل منہدم ہے، لیکن تصویر سے یہ پتہ نہیں لگتا ہے کہ تمام لوگ مار دیئے ہیں۔عراق کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پاس نہ ہی زندہ ہونے یا مارے جانے کے ٹھوس ثبوت ہیں، 2016کے بعد کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن پھر بھی تلاش جاری ہے،میں نے ان سے اپیل کی ہے کہ اب جو بھی معلومات دیں تو ثبوت کے ساتھ دیں، بغیر ثبوت اب میں خاندان سے بات نہیں کر سکتی ہوں،میں نے ان سے جیل کے وارڈن سے بات کرنے کو کہا ہے جس سے ہندوستان کے بارے میں کچھ پتہ چل سکے۔


Share: